تم ایک گورکھ دھندا ہو.....! Urdu Poetry-ARK .24
....تم ایک گورکھ دھندا ہو .....ناز خیالوی کی بہترین طو یل نظم .....کبھی یہاں تمہیں ڈھونڈا، کبھی وہاں پہنچا ......تمہاری دید کی خاطر کہاں کہاں پہنچا ....غریب مِٹ گئے پامال ہو گئے لیکن .....کسی تلک نہ تیرا آج تک نِشاں پہنچا ....ہو بھی نہیں اور ہر جا ہو، تم اک گورکھ دھندا ہو .....ہر ذرّے میں کس شان سے تو جلوہ نما ہے .....حیراں ہے مگر عقل کہ کیسا ہے تو کیا ہے ...تم اک گورکھ دھندا ہو ....تجھے دیر و ہرم میں میں نے ڈھونڈا، تو نہیں ملتا .....مگر تشریف فرما تجھ کو اپنے دِل میں دیکھا ہے ....ڈھونڈے نہیں ملے ہو، نا ڈھونڈے سے کہیں تم ....اور پھر یہ تماشہ ہے جہاں ہم ہیں وہیں تم ....تم اک گورکھ دھندا ہو .....جب بجز تیرے کوئی دوسرا موجود نہیں .....پھر سمجھ میں نہیں آتا تیرا پردہ کرنا ....تم اک گورکھ دھندا ہو ....حرم و دیر میں ہے جلوۂ پُرفن تیرا ....دو گھروں کا ہے چراغ اِک رُخِ روشن تیرا .....تم اک گورکھ دھندا ہو ....جو اُلفت میں تمہاری کھو گیا ہے ....اُسی کھوئے ہوئے کو کچھ مِلا ہے .....نہ بُت خانے، نہ کعبے میں مِلاہے .....مگر ٹوٹے ہوئے دِل میں ملا ہے ....عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے .......
Comments
Post a Comment
Thanks